رمضان المبارکسلائیڈرمقالہ جات و اقتباسات

عید فطر کی برکات و آثار میں غور و فکر

عید سعید فطر کی آمد پر روزہ دار ایک مہینہ تک تقوی الہی اختیار کرنے اور الہی قوانین کو انجام دینے کی سعی و کوشش کرنے کے بعد عبادی، ا جتماعی اور سیاسی زندگی کے ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوتا ہے، کیونکہ ماہ شوال کا چاند نمودار ہونے سے ماہ رمضان ختم ہوجاتا ہے اور عید فطر آجاتی ہے، اس دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ماہ شوال کا چاند ہماری فطری اور عادی زندگی میں نظم بخشتا ہے۔
(مجموعہ سوالات قرآنی از پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم،ص٢١)
لغت میں عید کے معنی
لغت میں عید کے معنی واپس پلٹنے کے ہیں، لہذا جن دنوں میں قوم وملت کی مشکلات دور ہوجاتی ہیں اور وہ اپنی پہلی فتح و کامیابی اور آسائش کی طرف پلٹ آتے ہیں تو اس کو عید کہتے ہیں اور اسلامی اعیاد میں ماہ مبارک رمضان کی اطاعت، یا فریضہ حج کو انجام دینے کے بعد انسان کے اندر پہلے والی روح و جان واپس آجاتی ہے اور جو آلودگیاں فطرت کے برخلاف ہیں وہ ختم ہوجاتی ہیں تو اس دن کو عید کہا جاتا ہے اور چونکہ جس دن مائدہ (دسترخوان) نازل ہوا، اس دن سب کامیابی، ایمان اور پاکیزگی کی طرف واپس پلٹ آئے تھے اسی وجہ سے حضرت عیسی(علیہ السلام) نے اس دن کو عید کا نام دیا۔
روایات میں بیان ہوا ہے کہ ”مائدہ” (دسترخوان) اتوار کے دن نازل ہوا تھا اور شاید عیسائیوں کی نظر میں اتوار کے دن کا احترام بھی اسی وجہ سے ہے۔ اور حضرت علی علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں ذکر ہوا ہے: و کل یوم لا یعصی اللّٰہ فیہ فھو یوم عید جس دن بھی خدا کی معصیت نہ ہو وہ عید کا دن ہے۔
(نہج البلاغہ ، کلمات قصار ،٤٢٨)
لہذا جس دن بھی گناہ کو ترک کردیا جائے وہ دن کامیابی، پاکیزگی اور پہلی فطرت کی طرف پلٹنے کا دن ہے۔
(تفسیر نمونہ ، ج ٥ ، ص ١٣١)
اوامر الہی میں حق گرائی کا مظہر عید فطر ہےظاہر سی بات ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے نزدیک عید فطر کے دن کو جشن وخوشی اور مسرت کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے لیکن اس اہم سوال کو پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ عید فطر کے روز جشن و شادمانی منانے کی اصلی خصوصیات کیا ہیں؟ اس کے جواب میں امام علی علیہ السلام کے اقوال کی تفسیر وتبین میں حضرت آیۃ اللہ العظمی مکارم شیرازی کے تفسیر محور نظریہ سے استفادہ کرتے ہوئے اس ابہام کو دور کیا جاسکتا ہے، امام علی علیہ السلام نے عید فطر کے متعلق اپنے ایک حکیمانہ فرمان میں اہم نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے، آپ فرماتے ہیں: آج کا دن فقط ان لوگوں کے لئے عید ہے جن کے روزہ اور عبادتیں، پروردگار عالم کی بارگاہ میں مقبول ہوگئی ہیں فِي بَعْضِ الْأَعْيَادِ: إِنَّمَا هُوَ عِيدٌ لِمَنْ قَبِلَ اللّٰهُ صِيَامَهُ وَشَكَرَ قِيَامَهُ‏۔ پھر اس سے بہت ہی اہم اور وسیع نتیجہ نکالتے ہوئے مزید فرماتے ہیں: (اس بناء پر) جس دن بھی خداوندعالم کی نافرمانی نہ ہو وہ دن عید ہے وَكُلُّ يَوْمٍ لَايُعْصَى اللّٰهُ فِيهِ فَهُوَ عِيدٌ
حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا کے لوگوں نے خوشی منانے کے لئے کچھ دن مخصوص کر رکھے ہیں جن کو عید کہتے ہیں یہ دن یا تو عید نوروز کی طرح ہیں کہ اس دن طبیعت میں ایک اہم تبدیلی آتی ہے، یا اس دن کسی علاقہ کی تاریخ میں اہم فتح حاصل ہوچکی ہوتی ہے، یا اجتماعی اور علمی تبدیلی آتی ہے جس کی یاد میں وہ اس کو عید شمار کرتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اسلام میں الہی اوامر کی اطاعت کرنے کو عید کہا جاتا ہے۔ عید فطر میں مسلمان خدا کے حکم سے ایک مہینہ روزہ رکھنے، شب و روز عبادت کرنےاور شیطان پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس کامیابی کا جشن مناتے ہیں، الہی فرمان کی اطاعت کرنے کا جشن مناتے ہیں۔
(پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، ج ١٥ ، ص۴۳۲،٤٣٣)
اس بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ماہ مبارک رمضان کے ایک مہینہ روزہ رکھنے کی خوشی اور جشن منانا حقیقت میں ہوائے نفس پر کامیاب ہونے کا جشن ہے اورخدا کے حکم کی اطاعت کرنے کا نام جشن ہے۔ اس بناء پر ایسا دن صرف ان لوگوں کے لئے عید ہے جو اس الہی فریضہ کو انجام دینے اور اس کے فلسفہ کو سمجھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، لیکن جن رو سیاہ لوگوں نے اس با عظمت مہینہ کا احترام نہیں کیا اور اس کے تعلیمی اورتربیتی پروگراموں کا احترام نہیں کیا ان کے لئے روز عزا اور شرم و حیاء کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
(یکصد و پنجاہ درس زندگی ، ص٩٢)
یہاں سے امام علی علیہ السلام کی یہ بات واضح ہوجاتی ہے: روز عید فطر ان لوگوں کے لئے عید ہے جن کے روزے او را طاعت قبول ہوگئی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے ۔ جن لوگوں نے خدانخواستہ بالکل روزے نہیں رکھے، یا ان کے روزے، گناہوں اور نافرمانیوں سے آلودہ تھے اور اسی وجہ سے بار گاہ الہی میں قبول نہیں ہوئے ہیں، ایسے لوگ خوشحال نہیں ہوسکتے، خوشحالی ان لوگوں کے لئے ہے جن کی اطاعت بارگاہ الہی میں مقبول ہوگئی ہے۔
اس منطق کی بنیاد پر جس دن بھی انسان گناہ نہ کرے اور صبح سے لے کر رات کے آخری حصہ تک پروردگار کی معصیت سے پرہیز کرے وہ دن عید شمار ہوگا اور اس بیان کے ساتھ ہم سال کے تمام دنوں کو اپنے لئے عید قرار دے سکتے ہیں۔
(پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، ج ١٥ ، ص٤٣٣)
اس شرط کے ساتھ کہ لوگ اس مہینہ میں جو نیک کام انجام دیتے ہیں ان کو ہمیشہ جاری و ساری رکھیں کیونکہ اس کی وجہ سے انسان کی عمر اور زندگی میں برکت ہوتی ہے۔
نماز عید فطر ، سیاست اور دیانت کا مظہر
اسلامی امت کے اتحاد اور ا سلامی معاشرہ کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے یقینا نماز عید فطر بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے، لہذااسلام کو پھیلانے، اسلام میں سیاست اور دیانت کو منطبق کرنے اور دنیائے اسلام کی مشکلات اور مصالح کو بیان کرنے میں دینی مبلغین کا کردار بہت اہم ہے۔”امام اور خطیب جمعہ کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ نماز جمعہ کے خطبوں میں مسلمانوں کے سامنے دین و دنیا کے مصالح بیان کریں اور لوگوں کو اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کی نقصاندہ اور فائدہ مند باتوں کو بیان کریں اور مسلمانوں کی ضرورتوں کو بیان کریں۔اسی طرح سیاسی، اقتصادی اور جو چیز بھی مسلمانوں کے مرکز کو تقویت پہنچاتی ہو ان سب کو بیان کریں۔ دوسری قوموں کے ساتھ ان کے صحیح روابط کے طریقوں کو بیان کریں”۔
(استفتائات جدید ، ج ٢ ، ص ١٣٨)
خلاصہ یہ ہے کہ نماز عید فطر بہت بڑا محاذ ہے لیکن افسوس کہ مسلمان اپنے اہم وظیفہ سے غافل ہیں، جس طرح اسلامی سیاست کے دوسرے تمام عظیم مراکز جیسے نماز جمعہ سے غافل ہیں، اسلام، سیاست سے ملا ہوا ہے اور جو بھی اسلام کے سیاسی، اجتماعی، قضائی اوراقتصادی احکام میں ذرہ برابر بھی غور وفکر کرے گا وہ اس کے معنی سمجھ جائے گا۔ جو بھی یہ خیال کرتا ہے کہ اسلام،سیاست سے جدا ہے وہ نہ اسلام کو پہچانتا ہے اور نہ سیاست جانتا ہے۔
(استفتائات جدید ، ج ٢ ، ص ١٣٨)
استکبار ستیزی میں عید فطر کا اہم کردار
یقینا دینی عبادات میں عید فطر کی کارکردگی بہت اہم ہے اورسیاسی و اجتماعی تعلیمات میں خصوصا اسلام کے اقتدار اور اس کی عظمت و ہیبت کو قوی کرنے میں نماز عید کے بے نظیر آثار سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دین مبین اسلام کے تمام احکام و قوانین بہت ہی واضح ہیں، لہذا ایک نماز عید سے ظالموں کی حکومت کو متزلزل کیا جاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت آیۃ اللہ العظمی مکارم شیرازی عید سعید فطر کے موقع پر تمام مسلمانوں کو نماز عید فطر میں شرکت کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ایک جگہ پر فرمایا ہے: نماز عید مستحب ہے لیکن ایسی مستحب ہے جس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اس کا شمار شعائر الہی میں ہوتا ہے، ہم نماز عید میں کہتے ہیں: خدایا ! آج کا دن ہماری عید کا دن ہے اور پیغمبر اکرم کی شرافت اسلام کے لئے عزت و عظمت اور یوم المعاد کے لئے ذخیرہ ہے۔اور چونکہ نماز عید فطر دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹا اور اسلام کی عزت و عظمت کا سبب ہے لہذا روزہ داروں کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ تعدادمیں شرکت کرنے سے دشمنوں کی تمام سازشیں ختم ہوجاتی ہیں اور وہ مایوس ہوجاتے ہیں۔امت اسلامی کی سیرت عبادی کا مظہر عید فطر ہےاس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ اسلام میں عیدفطر کا دن ایک بہت ہی مقدس دن ہے اور اس دن کے لئے عبادات اور خاص احکام بیان ہوئے ہیں۔
(پاسخ بہ پرسش ہای مذہبی ، ص ٥٠١)
لہذا عید سعید فطر کے دن دینی اور عبادی تعلیمات کو تقویت پہنچا کر ماہ رمضان میں مسلمانوں کی توفیقات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے، اسی وجہ سے حضرت آیۃ اللہ العظمی مکارم شیرازی کے بلند و بالا نظریات میں عبادی کاموں کی طرف روز بروز بہت ہی زیادہ اہمیت دلائی جاتی ہے۔
عید سعید فطر کا سب سے اہم نتیجہ تزکیہ ہے
اس بات کی طرف بھی توجہ دلانا ضروری ہے کہ عید سعید فطر میں عبادی اوردینی مناسک و اعمال کے آثار و برکات بہت زیادہ ہیں جن میں سے ایک چیز تزکیہ ہے جو فقراء کو زکات فطرہ ادا کرکے حاصل ہوتا ہے اور یہ اس دن کی ایک اہم خصوصیت شمار ہوتی ہے ، لہذا مرجع عالی قدر حضرت آیۃ اللہ العظمی مکارم شیرازی کے تفسیری نظریہ میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ سورہ اعلی کی ١٤ و ١٥ آیات میں اہل ایمان کی نجات اور اس نجات کے علل و اسباب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، لہذا خداوندعالم پہلے مرحلہ میں فرماتا ہے ‘‘قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی ، وَ ذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی”بے شک پاکیزہ رہنے والا کامیاب ہوگیا ، جس نے اپنے رب کے نام کی تسبیح کی اور پھر نماز پڑھی۔اس لحاظ سے فلاح و کامیابی اور فتح ونجات کے تین علل و اسباب بیان ہوئے ہیں:تزکیہ، ”خداوندعالم کا نام لینا ” اور پھر ”نماز ادا کرنا”۔
”تزکیہ” سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلہ میں مختلف تفاسیر بیان ہوئی ہیں:
١۔ روح کا شرک سے پاک و پاکیزہ ہونا ہے۔
٢ ۔ اسی طرح سورہ اعلی کی ١٤ ویں آیت سے مراد دل کو اخلاقی رذائل سے پاک و پاکیزہ اور اعمال صالح انجام دینے سے تعبیر کرسکتے ہیں، قرآن مجید میں آیات فلاح کے قرینہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیونکہ سورہ مومنون کی ابتدائی آیات میں فلاح اور کامیابی کو اعمال صالح انجام دینے میں بیان کیا گیا ہے، اسی طرح اس بات پر سورہ شمس کی نویں آیت بھی دلالت کرتی ہے جس میں تقوی اور فجور کے مسئلہ کو بیان کرنے کے بعد کہا ہے: ”قد افلح من زکاھا” ۔ جس نے اپنے آپ کو فجور اور برے اعمال سے پاک و پاکیزہ کرلیا اور زینت تقوی سے آراستہ کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔
(تفسیر نمونہ ، ج٢٦ ، ص٤٠٢)
٣ ۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ زکات فطرہ ،عید فطر کے دن دیا جاتا ہے، اس دن سب سے پہلے زکات ادا کی جاتی ہے اور پھر نماز عید پڑھی جاتی ہے ، جیسا کہ متعدد روایات میں امام صادق علیہ السلام سے یہ معنی نقل ہوئے ہیں۔
(نور الثقلین ، ج ٥ ، ص ٥٥٦ ، حدیث ١٩ و ٢٠)
یہی معنی اہل سنت کی کتابوں میں امیرالمومنین علی علیہ السلام سے نقل ہوئے ہیں۔
(روح المعانی ، ج٣٠ ، ص١١٠ ،تفسیر کشاف ، ج٤،ص٤٧٠،تفسیر نمونہ ، ج٢٦ ،ص٤٠٢)
اس بناء پر ”قد افلح من تزکی و ذکر اسم ربہ فصلی” میں ”تزکی ” سے مراد ”زکات” ہے اور ”ذکر اسم ربہ” سے مراد وہی تکبیرات ہیں جو عید کے دن کہی جاتی ہیں اور ”فاء ” یعنی اس کے بعد نماز عید پڑھی جاتی ہے، اس وجہ سے زکات فطرہ کو پہلے ادا کرنا ضروری ہے، البتہ اگر ایسا ضرورت مند آپ کی نظر میں ہے جو فی الحال موجود نہیں ہے تو اس کی نیت سے فطرہ نکال کر الگ رکھ دینا چاہئے۔
عید فطر کے روز مال کے عنوان سے اہم ترین واجب، زکات فطرہ ہےیہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ماہ مبارک رمضان کے قبول ہونے کی شرط، زکات فطرہ کو ادا کرنا ہے، فطرہ کا ادا کرنا واجب کام ہے جس کی طرف قرآن اور روایات میں بھی اشارہ ہوا ہے، لہذا فطرہ ادا کرنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان پورے سال تمام حوادث کے مقابلہ میں محفوظ ہوجاتا ہے اورانسان یہ زکات ادا کرنے کے بعد پورے سال کے لئے محفوظ ہوجاتا ہے۔
زکات فطرہ زکات کی ایک قسم ہے جو ہر بالغ، عاقل اور قدرت مند انسان پر ضروری ہے کہ عید فطر کے روز اپنی طرف سے اور ان تمام لوگوں کی طرف سے جن کا خرچ اس کے اوپر ہے، چاہے وہ بچہ ہو یا بڑاہو ، زکات فطرہ ادا کرے ۔ ہر فرد کے لئے زکات فطرہ کی مقدار ایک صاع (تقریبا تین کیلو ) ہے اور اس کی جنس وہ کھانا ہے جو انسان اکثر وبیشتر استعمال کرتا ہے جیسے گہیوں، جو اورخرماوغیرہ ۔ زکات فطرہ کے اصول میں شیعہ اور ا ہل سنت کے یہاں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
(آئین ما (اصل الشیعہ )،ص١٩٧)
اس وجہ سے زکات فطرہ، انسان کی سلامتی کی ضمانت ہے اور انسان اس سلسلہ میں جس قدر بھی سرمایہ گزاری کرے بجا اور بہتر ہے، اس بناء پر جن لوگوں کی زندگی اچھی ہے اور کوئی پریشانی نہیں ہے وہ زکات فطرہ ادا کریں، لیکن جو لوگ پریشانی میں ہیں اور ان کا خرچ ان کی آمدنی سے بہت زیادہ ہے، ان پر زکات فطرہ واجب نہیں ہے اور وہ خود فطرہ لے سکتے ہیں۔
آخری بات
شوال کی پہلی تاریخ کو عید منانا ایک طرح سے انعام اورہدیہ ہے، لیکن جن لوگوں نے ماہ رمضان میں روزے نہیں رکھے وہ بہت ہی نقصان اور گھاٹے میں ہیں، امام علی علیہ السلام کے خطبہ کے ایک حصہ میں ذکر ہوا ہے کہ آپ عید فطر کے دن عید فطر کو قیامت کے دن سے تشبیہ دیتے تھے اور لوگوں سے درخواست کرتے تھے کہ جب مصلی پر جائیں تو اس دن کو یاد کریں جب محشر میں داخل ہوں گے اور جب نماز تمام ہوجائے تو خطبوں کو غور سے سنیں اور اس وقت کو یاد کریں جب میدان محشر سے بہشت کی طرف روانہ ہوں گے۔
لہذا حضرت علی علیہ السلام کے بیان میں روزہ دار کو سب سے کم چیز جو نصیب ہوگی وہ یہ ہے کہ ماہ مبارک کے آخری روزہ کے دن ایک فرشتہ آواز دے گا کہ اے بندگان خدا! تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ خداوندعالم نے تمہارے سارے گناہوں کو معاف کردیا ہے اور تمہارے نامہ اعمال پاک ہوگئے ہیں اور اس بات کا خیال رہے کہ تمہارے پاک شدہ نامہ اعمال دوبارہ گناہوں سے آلودہ نہ ہوجائیں۔
(تنظیم و ترتیب اور تحقیق : آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت)
https://makarem.ir/

 

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button