خطبات جمعہسلائیڈرمکتوب خطبات

خطبہ جمعۃ المبارک (شمارہ:331)

(بتاریخ: جمعۃ المبارک 28 نومبر 2025 بمطابق 6 جمادی الثانی 1447ھ)
تحقیق و ترتیب: عامر حسین شہانی جامعۃ الکوثر اسلام آباد

جنوری 2019 میں بزرگ علماء بالخصوص آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ کی جانب سے مرکزی آئمہ جمعہ کمیٹی قائم کی گئی جس کا مقصد ملک بھر میں موجود خطیبِ جمعہ حضرات کو خطبہ جمعہ سے متعلق معیاری و مستند مواد بھیجنا ہے۔ اگر آپ جمعہ نماز پڑھاتے ہیں تو ہمارا تیار کردہ خطبہ جمعہ پی ڈی ایف میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے وٹس ایپ پر رابطہ کیجیے۔
مرکزی آئمہ جمعہ کمیٹی جامعۃ الکوثر اسلام آباد
03465121280

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
موضوع: تخلیقِ کائنات کے الٰہی مقاصد

مومنین کرام! میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اور پھر آپ سب کو اللہ کے تقویٰ اور اطاعت کی وصیت کرتا ہوں۔ تقویٰ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اللہ کی فرمانبرداری میں ہی انسان کی نجات ہے۔
گزشتہ خطبوں میں ہم نے سیرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا پر گفتگو کی اور پھرسیدہ کے خطبۂ فدک کی روشنی میں توحیدِ الٰہی کے موضوع پر گفتگو کی، اور یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے، اور اس کی تخلیق کسی ذاتی حاجت یا منفعت کی محتاج نہیں۔ اس نفی کے بعد ایک حکیم اور دانا پروردگار کے افعال کے مقصد کو سمجھنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے، کیونکہ: "فِعْلُ الْحَكِيْمِ لَا يَخْلُوْ عَنِ الْحِكْمَةِ” (حکیم کا فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا)۔ آج کے خطبہ میں ہم اسی اہم نکتے پر روشنی ڈالیں گے کہ "تخلیقِ کائنات کے الٰہی مقاصد کیا ہیں؟”
ام ابیھا، سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبۂ فدک میں اس سوال کا نہایت مختصر اور جامع جواب عطا فرمایا ہے جو درحقیقت قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے۔ سیدہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں:
۔۔۔اِبْتَدَعَ الْاَشْیاءَ لامِنْ شَیءٍ كانَ قَبْلَها، وَ اَنْشَاَها بِلاَاحْتِذاءِ اَمْثِلَةٍ اِمْتَثَلَها، كَوَّنَها بِقُدْرَتِهِ وَ ذَرَأَها بِمَشِیتِهِ، مِنْ غَیرِ حاجَةٍ مِنْهُ اِلی تَكْوینِها، وَ لافائِدَةٍ لَهُ فی تَصْویرِها، اِلاَّ تَثْبیتاً لِحِكْمَتِهِ وَ تَنْبیهاً عَلی طاعَتِهِ، وَ اِظْهاراً لِقُدْرَتِهِ وَ تَعَبُّداً لِبَرِیتِهِ، وَ اِعْزازاً لِدَعْوَتِهِ،
عالم کو عدم سے پیدا کیا ہے اور اس کے پیدا کرنے میں وہ محتاج نہ تھا اپنی مشیئت کے مطابق خلق کیا ہے۔ جہان کے پیدا کرنے میں اسے اپنے کسی فائدے کے حاصل کرنے کا قصد نہ تھا۔ جہان کو پیدا کیا تا کہ اپنی حکمت اور علم کو ثابت کرے اور اپنی اطاعت کی یاد دہانی کرے، اور اپنی قدرت کا اظہار کرے، اور بندوں کو عبادت کے لئے برانگیختہ کرے، اور اپنی دعوت کو وسعت دے۔
اب ہم ان مقاصد کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔
1۔اظہار حکمت
حضرت صدیقہ طاہرہ (سلام اللہ علیہا) نے خلقت کا پہلا مقصد یہ بتایا ہے کہ تَثْبیتاً لِحِكْمَتِهِ اللہ نے اپنی حکمت کو ظاہر کرنے کے لئے چیزوں کو خلق کیا ہے۔
حکمت، حقائق کی سمجھ بوجھ اور فہم کو کہتے ہیں۔حکمت میں علم اور عمل دونوں شامل ہیں۔ حکیم وہ ہے جو اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے بہترین علم رکھتا ہو اور مضبوط ترین راستہ اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا مطلب یہ ہے کہ وہ مخلوقات کو بہترین راستوں سے بہترین مقاصد تک پہنچاتا ہے۔
قرآن مجید میں سورہ اعراف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ
آگاہ رہو! آفرینش اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے، بڑا بابرکت ہے اللہ جو عالمین کا رب ہے۔
شیعہ تفاسیر یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ خلقت اور امر، یعنی تخلیق اور تدبیر، دونوں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس آیت میں "تَبٰرَكَ اللّٰهُ” کا جملہ اس بات کی گواہی ہے کہ اس کی تخلیق، جو اس کی قدرت اور حکمت کا مظہر ہے، بے عیب اور ہر نقص سے پاک ہے۔
اللہ نے ہر چیز کو ایک خاص تقدیر اور مصلحت کے ساتھ خلق کیا ہے اور اس نظام میں کوئی خلل نہیں۔ اللہ کی حکمت کا اظہار ہی انسان کو کائنات کی ہر تخلیق میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ جب انسان کائنات کے نظامِ حکیمانہ پر غور کرتا ہے تو اس کے دل میں خالق کی معرفت پیدا ہوتی ہے۔

2۔بندگی کی جانب متوجہ کرنا
سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے بیان فرمایا کہ کائنات کی تخلیق کا دوسرا مقصد انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کر کے اللہ کی اطاعت کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ دنیا ایک گزر گاہ ہے، لیکن انسان یہاں کی ظاہری چمک دمک میں کھو کر اپنے حقیقی مقصد یعنی آخرت اور بندگی سے غافل ہو جاتا ہے۔
سیدہ سلام اللہ علیہا کا نورانی کلام ہے:
"وَ تَنْبِيهاً عَلَى طَاعَتِهِ "اور (مخلوق کو) طاعت و بندگی کی طرف توجہ دلانا چاہتا تھا۔
حدیث امیر المؤمنین (ع): اس دنیا میں انسان کی غفلت کو امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
اَلنَّاسُ نِيَامٌ إِذَا مَاتُوا اِنْتَبَهُوا
اردو ترجمہ: "لوگ سو رہے ہیں، جب مریں گے تو جاگ اٹھیں گے۔
اس دنیا میں حقائق سے بے خبری ایک نیند کی مانند ہے اور موت وہ بیدار کرنے والا جھٹکا ہے۔ تاہم، اس وقت بیداری کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ عمل کا وقت گزر چکا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے اظہار اور پیغمبروں کے ذریعے دعوت بھیج کر لوگوں کو اس دنیا میں ہی بیدار ہونے کا موقع دیا ہے۔ بندگی اور اطاعت کا راستہ اختیار کرنے والا دنیا میں ہی جاگ اٹھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے روزِ قیامت کی بیداری کو اس طرح بیان فرمایا ہے:
وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ
اور جس دن جہنم حاضر کی جائے گی، اس دن انسان متوجہ ہوگا لیکن اب متوجہ ہونے کا کیا فائدہ؟
یہ آیت انسان کو دنیا میں ہی غفلت سے نکلنے کی تنبیہ ہے، کیونکہ قیامت آ جانے کے بعد پر پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں۔ فائدہ تب ہے جب اسی دنیا میں انسان متوجہ ہو جائے اور اپنی زندگی اپنے رب کی اطاعت میں گزارے۔
3۔اظہار قدرت
سیدہ طاہرہ سلام اللہ علیہا نے تخلیق کا ایک تیسرا بڑا مقصد قدرتِ الٰہی کا اظہار قرار دیا ہے۔ ہر خالق کی پہچان اس کی تخلیق سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات خلق فرما کر اپنی لامتناہی طاقت کا تعارف کروایا ہے۔
سیدہ سلام اللہ علیہا کا ارشاد ہے:
وَ إِظْهَاراً لِقُدْرَتِهِ اور (چاہتا تھا کہ) اپنی قدرت کا اظہار کرے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو کائنات کے عجائبات پر غور کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ اس کی قدرت کو پہچان سکے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ، وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ، وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ، وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ
اردو ترجمہ: "کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ اسے کس طرح پیدا کیا گیا ہے؟ اور آسمان کو کہ اسے کس طرح بلند کیا گیا ہے؟ اور پہاڑوں کو کہ انہیں کس طرح گاڑا گیا ہے؟ اور زمین کو کہ اسے کس طرح بچھایا گیا ہے؟
ان آیات میں خالقِ کائنات نے چار ایسی نمایاں مخلوقات کی طرف توجہ دلائی ہے جن میں غور و فکر کرنے سے انسان اس کی لامحدود قدرت کو پہچانتا ہے۔ اونٹ کی ساخت میں صحرائی زندگی کے لیے حیرت انگیز موافقت، آسمان کی چھت کا بغیر ستونوں کے بلند ہونا، پہاڑوں کا زمین کی پختگی کے لیے گاڑا جانا، اور زمین کا انسان کی زندگی کے لیے ہموار بستر بننا، یہ سب اس بات کی روشن دلیلیں ہیں کہ ایک عظیم قدرت ہر چیز کی خالق ہے۔ ایٹم کے چھوٹے ذرات سے لے کر کہکشاؤں کی وسعت تک، ہر چیز میں اللہ کی قدرت کے نئے نئے دروازے کھلتے جا رہے ہیں۔
4۔مخلوق کو دائرہء بندگی میں لانا
سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے تخلیق کا چوتھا مقصد بیان کرتے ہوئے تَعَبُّدًا لِبَرِيَّتِهِ کا لفظ استعمال فرمایا۔
سیدہ سلام اللہ علیہا کا نورانی کلام ہے:
وَ تَعَبُّدًا لِبَرِيَّتِهِ
اور مخلوق کو اپنی بندگی کے دائرے میں لانا چاہتا تھا۔
بندگی اور عبادت کائنات کی تخلیق کا حتمی اور واضح مقصد ہے، جس کا اعلان اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں فرمایا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔
تعبُّد کا لفظ اطاعت سے زیادہ گہرا معنی رکھتا ہے۔ یہ محض فرمانبرداری نہیں، بلکہ انتہائی خضوع اور عاجزی کا نام ہے، جو صرف اس ذات کے لیے مخصوص ہے جو خالق اور مالک ہو۔ جیسا کہ سیدہ نے بیان فرمایا، عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے کیونکہ وہی ہر کمال کا مالک ہے اور کوئی اس کا کُفْو نہیں۔ نماز، روزہ، حج جیسے اعمال اسی تعبُّد کی عملی شکلیں ہیں۔
تعبُّد کی تکمیل یہ ہے کہ انسان ولایت کو قبول کرے۔ اطاعتِ رسول اور اطاعتِ امام درحقیقت اطاعتِ خدا ہے۔ جو شخص اللہ کی بندگی کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے، وہ اللہ کے نمائندوں کی اطاعت کو بھی اپنے ایمان کا حصہ بنا لیتا ہے۔
5۔دعوت و بندگی کی عزت و استحکام کے لیے
تخلیقِ کائنات کا پانچواں اور انتہائی لطیف مقصد، جو سیدہ نے بیان فرمایا، وہ اللہ کی دعوت کو غلبہ اور عزت بخشنا ہے۔
سیدہ سلام اللہ علیہا کا ارشاد ہے:
وَ إِعْزَازاً لِدَعْوَتِهِ
اور اپنی دعوت کو استحکام دینا چاہتا تھا۔
عزت ایک ایسی حالت ہے جو شکست اور مغلوبیت سے روکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ خود عزیز (غالب) ہے، اور وہ اپنی دعوت کو بھی عزیز (غالب اور محترم) بنانا چاہتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ میں العزیز کثرت سے استعمال ہوا ہے:
فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ
جان لو کہ اللہ غالب آنے والا، باحکمت ہے۔
علامہ مجلسی (علیہ الرحمہ) اس جملے "وَ إِعْزَازًا لِدَعْوَتِهِ” کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اللہ نے چیزوں کو خلق کیا تاکہ انبیاء جو ان مخلوقات کو دلیل کے طور پر پیش کرکے لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے تھے، اللہ اس دعوت کو غالب اور ظاہر کرے۔ یعنی یہ عظیم کائنات خود نبوت کی صداقت اور دعوتِ الٰہی کی حقانیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جب انسان اس منظم نظام کو دیکھتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ پیغمبر جو خدائے واحد کی طرف بلا رہے ہیں، وہ حق پر ہیں۔ اس طرح مخلوقات کی تخلیق سے اللہ کی بندگی کی دعوت کو عزت اور غلبہ حاصل ہوتا ہے۔
موجودہ حالات میں مومنین کی ذمہ داریاں:
مومنین کرام! جب اللہ کا مقصد ہی ہمیں اطاعت کی طرف متوجہ کرنا ہے تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس غفلت کی نیند کو ترک کریں۔ موجودہ دور میں، جہاں دنیاوی فتنوں اور سوشل میڈیا کی چکاچوند نے ہمیں لپیٹ میں لے رکھا ہے، ہماری بیداری کا پیمانہ یہی ہے کہ:
1. اطاعتِ ولی: ہم اللہ کے مقرر کردہ انبیاء و اولیاء آئمہ اہل بیت اور خصوصا وقت کے امام (امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف) کی تعلیمات اور ان کی غیبت کے دوران (مراجع کرام) کے بتائے گئے احکام پر عمل پیرا ہوں۔
2. فکرِ آخرت: اپنے ہر عمل کو آخرت کی میزان پر تولیں اور موت کی آمد سے پہلے خود کو بیدار کریں۔
3. تبلیغِ بیداری: اپنے خاندان اور معاشرے کو غفلت سے نکالنے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کریں۔
4. اخلاقی عزت: اپنے کردار اور عمل سے ثابت کریں کہ دینِ حق، یعنی مکتبِ اہل بیت، عزت اور غلبہ کا دین ہے۔ ہمارے اخلاق، ایمانداری اور معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس ہی دعوت کو عزت بخشتا ہے۔
5. دعوت بذریعہ عمل: صرف زبانی دعوت نہیں، بلکہ ہمارے علمی، اخلاقی اور فلاحی کاموں کے ذریعے اس دعوت کو معاشرے میں غالب کریں۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ
٭٭٭٭٭

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button