ہتھیاروں سے شکارکرنے کے احکام

مسئلہ (۲۶۱۸)اگرحلال گوشت جنگلی حیوان کاشکار ہتھیاروں کے ذریعے کیاجائے اور وہ مرجائے توپانچ شرطوں کے ساتھ وہ حیوان حلال اوراس کابدن پاک ہوتاہے:
۱:) شکارکاہتھیارچھری اورتلوار کی طرح کاٹنے والاہویانیزے اورتیرکی طرح تیز ہوتاکہ تیزہونے کی وجہ سے حیوان کے بدن کوچاک کردے اور دوسری قسم اگر ہتھیار کے نیزہ میں نوک نہ ہو تو حیوان کے حلال ہونے میں شرط یہ ہےکہ حیوان کا بدن زخمی ہوجائے اور چاک ہوجائے اور اگر نیزہ میں نوک ہوتو کافی ہےکہ اسے مار دے اگرچہ زخمی نہ کرےاوراگرحیوان کاشکارجال یا لکڑی یاپتھریاانہی جیسی چیزوں کے ذریعے کیاجائے اور وہ مرجائے تووہ پاک نہیں ہوتااوراس کاکھانا بھی حرام ہے اور (احتیاط واجب کی بنا پر) یہی حکم ہے جب کسی ایسی چیز سے شکار کیا جائے جو تیز تو ہے لیکن ہتھیار نہیں ہےجیسے بڑی سوئی ، کھانے کا کانٹا یا لوہے کی سلاخ اور اس کی جیسی چیزیں اوراگرحیوان کاشکاربندوق سے کیاجائے اوراس کی گولی حیوان کے بدن میں گھس جائے اوراسے چاک کردے تو وہ حیوان پاک اور حلال ہے چاہے گولی تیز اور پھاڑنے والی ہو یا نہ اور ضروری نہیں ہےکہ یہ گولی لوہے سے بنی ہوئی ہو لیکن اگر یہ گولی تیزی کے ساتھ حیوان کے بدن میں داخل نہ ہو بلکہ دباؤ کی وجہ سے اس کو ماردے،یا گرمی کی وجہ سے اس کابدن جلادے اوراس جلنے کے اثرسے حیوان مرجائے تواس حیوان کے پاک اورحلال ہونے میں اشکال ہے۔
۲:)ضروری ہے کہ شکاری مسلمان ہویاایسامسلمان بچہ ہوجوبرے بھلے کوسمجھتاہو اور اگرغیر کتابی کافریاوہ شخص جوکافرکے حکم میں ہو( جیسے ناصبی) کسی حیوان کا شکار کرے تووہ شکار حلال نہیں ہے بلکہ کتابی کافر بھی اگرشکارکرے اوراللہ کانام بھی لے تب بھی (احتیاط واجب کی بناپر)وہ حیوان حلال نہیں ہوگا۔
۳:) ہتھیاراس حیوان کوشکار کرنے کے لئے استعمال کرے اور اگرمثلاً کوئی شخص کسی جگہ کونشانہ بنارہاہواوراتفاقاً ایک حیوان کوماردے تووہ حیوان پاک نہیں ہے اور اس کاکھانابھی حرام ہے لیکن اگر شکار کے قصد سے کسی خاص حیوان پر نشانہ لگائے اور کسی دوسرے کے جاکر لگ جائے اور وہ مرجائے تو حلال ہے۔
۴:)ہتھیارچلاتے وقت شکاری اللہ کانام لے اور اگرنشانے پرلگنے سے پہلے اللہ کانام لے توبھی کافی ہے،لیکن اگرجان بوجھ کراللہ تعالیٰ کانام نہ لے توشکار حلال نہیں ہوتاالبتہ بھول جائے توکوئی اشکال نہیں ۔
۵:)اگرشکاری حیوان کے پاس اس وقت پہنچے جب وہ مرچکاہویااگرزندہ ہوتو ذبح کرنے کے لئے وقت نہ ہویاذبح کرنے کے لئے وقت ہوتے ہوئے وہ اسے ذبح نہ کرے حتیٰ کہ وہ مرجائے توحیوان حرام ہے۔
مسئلہ (۲۶۱۹)اگردواشخاص (مل کر) ایک حیوان کاشکارکریں اوران میں سے ایک مذکورہ پوری شرائط کے ساتھ شکارکرے،لیکن دوسرے کے شکارمیں مذکورہ شرائط میں سے کچھ کم ہوں ،مثلاً ان دونوں میں سے ایک اللہ تعالیٰ کانام لے اور دوسراجان بوجھ کراللہ تعالیٰ کانام نہ لے تووہ حیوان حلال نہیں ہے۔
مسئلہ (۲۶۲۰)اگرتیرلگنے کے بعدمثال کے طورپرحیوان پانی میں گرجائے اور انسان کوعلم ہوکہ حیوان دونوں کے ذریعہ( تیر لگنے اورپانی میں ) گرنے سے مراہے تووہ حیوان حلال نہیں ہے بلکہ اگرانسان کویہ علم نہ ہو کہ وہ فقط تیرلگنے سے مراہے تب بھی وہ حیوان حلال نہیں ہے۔
مسئلہ (۲۶۲۱)اگرکوئی شخص غصبی کتے یاغصبی ہتھیار سے کسی حیوان کاشکار کرے تو شکار حلال ہے اور خوداس شکاری کامال ہوجاتاہے،لیکن اس بات کے علاوہ کہ اس نے گناہ کیا ہے ضروری ہے کہ ہتھیاریاکتے کی اجرت اس کے مالک کودے۔
مسئلہ (۲۶۲۲)اگرشکارکرنے کے ہتھیار مثلاًتلوارسے حیوان کے بعض اعضاء مثلاً ہاتھ اورپاؤں اس کے بدن سے جداکردیئے جائیں تووہ عضوحرام ہیں ،لیکن اگرمسئلہ (۲۶۱۸) میں مذکورہ شرائط کے ساتھ اس حیوان کوذبح کیاجائے تواس کاباقی ماندہ بدن حلال ہوجائے گا۔لیکن اگرشکار کے ہتھیارسے مذکورہ شرائط کے ساتھ حیوان کے بدن کے دوٹکڑے کردیئے جائیں اورسراورگردن ایک حصے میں رہیں اورانسان اس وقت شکار کے پاس پہنچے جب اس کی جان نکل چکی ہوتودونوں حصے حلال ہیں اوراگرحیوان زندہ ہو لیکن اسے ذبح کرنے کے لئے وقت نہ ہوتب بھی یہی حکم ہے۔لیکن اگرذبح کرنے کے لئے وقت ہواورممکن ہوکہ حیوان کچھ دیرزندہ رہے تووہ حصہ جس میں سراورگردن نہ ہو حرام ہے اوروہ حصہ جس میں سراورگردن ہواگر مذکورہ مسئلہ کے ساتھ ذبح کیاجائے توحلال ہے ورنہ وہ بھی حرام ہے۔
مسئلہ (۲۶۲۳)اگرلکڑی یاپتھریاکسی دوسری چیزسے جن سے شکارکرناصحیح نہیں ہے کسی حیوان کے دو ٹکڑے کردیئے جائیں تووہ حصہ جس میں سراورگردن نہ ہوحرام ہے اور اگرحیوان زندہ ہواورممکن ہو کہ کچھ دیرزندہ رہے اوراسے شرع کے متعین کردہ طریقے کے مطابق ذبح کیاجائے تووہ حصہ جس میں سر اورگردن ہوں حلال ہے ورنہ وہ حصہ بھی حرام ہے۔
مسئلہ (۲۶۲۴)جب کسی حیوان کاشکارکیاجائے یااسے ذبح کیاجائے اوراس کے پیٹ سے زندہ بچہ نکلے تواگراس بچے کوشرع کے معین کردہ طریقے کے مطابق ذبح کیا جائے توحلال ورنہ حرام ہے۔
مسئلہ (۲۶۲۵)اگرکسی حیوان کاشکارکیاجائے یااسے ذبح کیاجائے اوراس کے پیٹ سے مردہ بچہ نکلے تو اس صورت میں کہ جب بچہ اس حیوان کوذبح کرنے سے پہلے نہ مراہو اوراسی طرح جب وہ بچہ اس حیوان کے پیٹ سے دیر سے نکلنے کی وجہ سے نہ مراہو اگراس بچے کی بناوٹ مکمل ہواوراون یابال اس کے بدن پراگے ہوئے ہوں تووہ بچہ پاک اورحلال ہے۔




