
نمازوحشت
مسئلہ (۶۲۷)مناسب ہے کہ میت کے دفن کے بعدپہلی رات کواس کے لئے دو رکعت نماز وحشت پڑھی جائے اوراس کے پڑھنے کاطریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ الحمد کے بعدایک دفعہ آیۃ الکرسی اوردوسری رکعت میں سورۂ الحمد کے بعددس دفعہ سورۂ قدر پڑھاجائے اور نمازکے سلام کے بعدکہاجائے: ’’ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّابْعَثْ ثَوَابَھَااِلَی قَبْرِ فُلَانٍ‘‘۔اورلفظ فلاں کے بجائے میت کانام لیاجائے۔
مسئلہ (۶۲۸)نماز وحشت میت کے دفن کے بعدپہلی رات کو کسی وقت بھی پڑھی جا سکتی ہے لیکن بہتریہ ہے کہ اول شب میں نماز عشاکے بعدپڑھی جائے۔
مسئلہ (۶۲۹)اگرمیت کوکسی دورکے شہرمیں لے جانامقصودہویاکسی اوروجہ سے اس کے دفن میں تاخیرہوجائے تونماز وحشت کواس کے سابقہ طریقے کے مطابق دفن کی پہلی رات تک ملتوی کردیناچاہئے۔
نبش قبر
مسئلہ (۶۳۰)کسی مسلمان کانبش قبریعنی اس کی قبرکاکھولناخواہ وہ بچہ یا دیوانہ ہی کیوں نہ ہوحرام ہے۔ہاں اگراس کابدن مٹی کے ساتھ مل کرمٹی ہوچکاہوتوپھرکوئی حرج نہیں۔
مسئلہ (۶۳۱)امام زادوں، شہیدوں، عالموں کی قبروں کواجاڑنا خواہ انہیں فوت ہوئے کئی سال گزرچکے ہوں اوران کے بدن خاک ہوگئے ہوں، اگر ان کی بے حرمتی شمار ہوتی ہوتوحرام ہے۔
مسئلہ (۶۳۲)چندصورتیں ایسی ہیں جن میں قبرکاکھولناحرام نہیں:
۱): جب میت کوغصبی زمین میں دفن کیاگیاہواورزمین کامالک اس کے وہاں رہنے پر راضی نہ ہو۔اور نبش قبر بھی کسی قسم کی دشواری کا سبب نہ ہو ورنہ لازم نہیں ہے سواء یہ کہ خود غاصب ہو اور اگر نبش قبر میں بہت بڑی پریشانی ہوتو لازم نہیں ہےبلکہ جائز نہیں ہے جیسے یہ کہ نبش قبر سے میت کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کا سبب بنے بلکہ اگر بے احترامی کا سبب ہوتو (احتیاط واجب کی بنا پر) جائز نہیں ہے مگر یہ کہ میت نے خود زمین کو غصب کیا ہو۔
۲): جب کفن یاکوئی اورچیزجومیت کے ساتھ دفن کی گئی ہوغصبی ہواور اس کامالک اس بات پررضامندنہ ہوکہ وہ قبرمیں رہے اوراگرخودمیت کے مال میں سے کوئی چیزجو اس کے وارثوں کوملی ہواس کے ساتھ دفن ہوگئی ہواوراس کے وارث اس بات پر راضی نہ ہوں کہ وہ چیز قبرمیں رہے تواس کی بھی یہی صورت ہے،البتہ اگرمرنے والے نے وصیت کی ہوکہ دعایاقرآن مجیدیاانگوٹھی اس کے ساتھ دفن کی جائے اوراس کی وصیت نافذ ہوتوان چیزوں کونکالنے کے لئے قبرکونہیں کھولاجاسکتا۔اور اس مقام میں وہ مستثنیٰ چیزیں جو پہلے بیان کی گئی ہیں ان کا حکم جاری ہے۔
۳): جب قبرکاکھولنامیت کی بے حرمتی کاموجب نہ ہواورمیت کوبغیر غسل دیئے یا بغیرکفن پہنائے یا بغیر حنوط کے دفن کیاگیاہویاپتا چلے کہ میت کاغسل باطل تھایااسے شرعی احکام کے مطابق کفن نہیں دیاگیاتھایاحنوط نہیں کیا گیا تھایاقبر میں قبلے کے رخ پرنہیں لٹایاگیاتھا۔
۴): جب کوئی ایساحق ثابت کرنے کے لئے جو نبش قبرسے اہم یا اس کے مساوی ہو میت کا بدن دیکھنا ضروری ہو۔
۵): جب میت کو ایسی جگہ دفن کیاگیاہوجہاں اس کی بے حرمتی ہوتی ہو، مثلاً اسے کافروں کے قبرستان میں یا اس جگہ دفن کیاگیاہو جہاں غلاظت اورکوڑاکرکٹ پھینکا جاتا ہو۔
۶): جب کسی ایسے شرعی مقصد کے لئے قبرکھولی جائے جس کی اہمیت قبرکھولنے سے زیادہ ہو مثلاً کسی زندہ بچے کو ایسی حاملہ عورت کے پیٹ سے نکالنا مطلوب ہو جسے دفن کر دیا گیاہو۔
۷): جب یہ خوف ہوکہ درندہ میت کوچیر پھاڑ ڈالے گایاسیلاب اسے بہالے جائے گا یا دشمن اسے نکال لے گا۔
۸): میت نے وصیت کی ہوکہ اسے دفن کرنے سے پہلے مقدس مقامات کی طرف منتقل کیاجائے اور چنانچہ لے جاتے وقت اس میں کوئی دشواری نہ ہو لیکن جان بوجھ کر یا بھولے سےیا حکم سے جاہل ہونے کی بناء پر کسی دوسری جگہ دفنادیاگیاہوتوبے حرمتی نہ ہونے کی صورت میں قبر کھول کر اسے مقدس مقامات کی طرف لے جاسکتے ہیں بلکہ اس صورت میں نبش قبر کرنا اور منتقل کرنا واجب ہے۔




