ذبیحہ کے مستحبات و مکروہات

حیوانات کوذبح کرنے کے مستحبات
مسئلہ (۲۶۱۶)فقہاء رضوان اللہ علیہم نے حیوانات کوذبح کرنے میں کچھ چیزوں کو مستحب شمارکیاہے:
۱:) بھیڑکوذبح کرتے وقت اس کے دونوں ہاتھ اورایک پاؤں باندھ دیئے جائیں اور دوسرا پاؤں کھلارکھاجائے اورگائے کوذبح کرتے وقت اس کے چاروں ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جائیں اوردم کھلی رکھی جائے اوراونٹ کونحرکرتے وقت اگروہ بیٹھاہواہوتو اس کے دونوں ہاتھ نیچے سے گھٹنے تک یابغل کے نیچے ایک دوسرے سے باندھ دیئے جائیں اوراس کے پاؤں کھلے رکھے جائیں اور اگر کھڑا ہو تو اس کے بائیں پیر کو باندھ دیا جائے اورمستحب ہے کہ پرندے کوذبح کرنے کے بعد چھوڑ دیاجائے تاکہ وہ اپنے پراوربال پھڑپھڑاسکے۔
۲:)حیوان کوذبح(یانحر) کرنے سے پہلے اس کے سامنے پانی رکھاجائے۔
۳:)(ذبح یانحرکرتے وقت) ایساکام کیاجائے کہ حیوان کوکم سے کم تکلیف ہومثلاً چھری خوب تیزکرلی جائے اورحیوان کوجلدی ذبح کیاجائے۔
حیوان کوذبح کرنے کے مکروہات
مسئلہ (۲۶۱۷)حیوانات کوذبح کرتے وقت بعض روایات میں چندچیزیں مکروہ شمار کی گئی ہیں :
۱:) حیوان کی جان نکلنے سے پہلے اس کی کھال اتارنا۔
۲:)حیوان کوایسی جگہ ذبح کرناجہاں اس کی نسل کادوسراحیوان اسے دیکھ رہاہو۔
۳:)شب میں یاجمعہ کے دن ظہرسے پہلے حیوان کاذبح کرنا۔لیکن اگرایساکرنا ضرورت کے تحت ہوتواس میں کوئی عیب نہیں ۔
۴:)جس چوپائے کوانسان نے پالاہواسے خوداپنے ہاتھ سے ذبح کرنا۔




