احکاماحکام ذبیحہ و شکار

شکاری کتے سے شکار کرنا

مسئلہ (۲۶۲۶)اگرشکاری کتاکسی حلال گوشت جنگلی حیوان کاشکار کرے تو اس حیوان کے پاک ہونے اور حلال ہونے کے لئے چھ شرطیں ہیں :
۱:) کتااس طرح سدھایاہواہوکہ جب بھی اسے شکارپکڑنے کے لئے بھیجاجائے چلاجائے اور جب اسے جانے سے روکاجائے تورک جائے۔لیکن اگرشکار سے نزدیک ہونے اورشکارکودیکھنے کے بعداسے جانے سے روکاجائے اورنہ رکے توکوئی حرج نہیں ہے اور اگر اس کی یہ عادت ہوکہ مالک کے پہونچنے سے پہلے شکار کو کھالیتا ہوتو کوئی حرج نہیں ہے اور یہی حکم ہے اگر اس کی عادت شکار کے خون پی لینے کی ہو تب بھی کوئی اشکال نہیں ہے اور( احتیاط واجب کی بناء پر) یہ شرط ہے کہ اس کی عادت اُس طرح ہو کہ جب مالک چاہے تو اس سے شکار کو لے لے تو وہ ممانعت نہ کرے اور مخالفت پر نہ اُتر آئے۔
۲:)اس کامالک اسے شکار کے لئے بھیجے اوراگروہ اپنے آپ ہی شکار کے پیچھے جائے اور کسی حیوان کوشکار کرلے تواس حیوان کاکھاناحرام ہے۔بلکہ اگرکتااپنے آپ شکار کے پیچھے لگ جائے اور بعد میں اس کامالک اسے آواز دے تاکہ وہ جلدی شکار تک پہنچے تواگرچہ وہ مالک کی آواز کی وجہ سے تیزبھاگے پھربھی (احتیاط واجب کی بناپر)اس شکار کوکھانے سے اجتناب کرناضروری ہے۔
۳:)جوشخص کتے کوشکار کے پیچھے لگائے ضروری ہے کہ مسلمان ہو۔اس تفصیل کے مطابق جواسلحہ سے شکار کرنے کی شرائط میں بیان ہوچکی ہے۔
۴:)کتے کوشکار کے پیچھے بھیجتے وقت یا شکاری کتے کے حیوان تک پہونچنے سے پہلے شکاری اللہ تعالیٰ کانام لے اوراگرجان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کانام نہ لے تووہ شکارحرام ہے،لیکن اگربھول جائے تواشکال نہیں ۔
۵:)شکارکوکتے کے دانت کے کاٹنے سے جوزخم آئے وہ اس سے مرے۔لہٰذااگرکتا شکار کا گلا گھونٹ دے یاشکار دوڑنے یاڈرجانے کی وجہ سے مرجائے توحلال نہیں ہے۔
۶:)جس شخص نے کتے کوشکارکے پیچھے بھیجاہواگروہ (شکار کئے گئے حیوان کے پاس) اس وقت پہنچے جب وہ مرچکاہویااگرزندہ ہوتواسے ذبح کرنے کے لئے وقت نہ ہو۔(لیکن شکارکے پاس پہنچناغیرمعمولی تاخیر کی وجہ سے نہ ہو)اور اگرایسے وقت پہنچے جب اسے ذبح کرنے کے لئے وقت ہو لیکن وہ حیوان کوذبح نہ کرے حتیٰ کہ وہ مرجائے تووہ حیوان حلال نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۶۲۷)جس شخص نے کتے کوشکار کے پیچھے بھیجاہواگروہ شکار کے پاس اس وقت پہنچے جب وہ اسے ذبح کرسکتاہوتوذبح کرنے کے لوازمات مثلاً اگرچھری نکالنے کی وجہ سے وقت گزرجائے اورحیوان مرجائے توحلال ہے،لیکن اگراس کے پاس ایسی کوئی چیز ہوجس سے حیوان کوذبح کرے اوروہ مرجائے تو (بنابراحتیاط واجب )وہ حلال نہیں ہوتاالبتہ اس صورت میں اگروہ شخص اس حیوان کوچھوڑدے تاکہ کتااسے مارڈالے تووہ حیوان حلال ہوجاتاہے۔

مسئلہ (۲۶۲۸)اگرکئی کتے شکارکے پیچھے بھیجے جائیں اوروہ سب مل کرکسی حیوان کا شکار کریں تواگروہ سب کے سب ان شرائط کوپوراکرتے ہوں جومسئلہ (۲۶۲۶ )میں بیان کی گئی ہیں توشکار حلال ہے اوراگران میں سے ایک کتابھی ان شرائط کوپورانہ کرے توشکار حرام ہے۔

مسئلہ (۲۶۲۹)اگرکوئی شخص کتے کو کسی حیوان کے شکار کے لئے بھیجے اوروہ کتا کوئی دوسرا حیوان شکار کرلے تووہ شکار حلال اورپاک ہے اوراگرجس حیوان کے پیچھے بھیجا گیا ہواسے بھی اورایک اورحیوان کو بھی شکار کرلے تووہ دونوں حلال اورپاک ہیں ۔

مسئلہ (۲۶۳۰)اگرچنداشخاص مل کرایک کتے کوشکار کے پیچھے بھیجیں اوران میں سے ایک شخص جان بوجھ کرخداکانام نہ لے تووہ شکارحرام ہے نیزجوکتے شکار کے پیچھے بھیجے گئے ہوں اگران میں سے ایک کتااس طرح سدھایاہوانہ ہوجیساکہ مسئلہ ( ۲۶۲۶) میں بتایاگیاہے تووہ شکارحرام ہے۔

مسئلہ (۲۶۳۱)اگربازیاشکاری کتے کے علاوہ کوئی اورحیوان کسی جانورکاشکار کرے تووہ شکارحلال نہیں ہے۔لیکن اگرکوئی شخص اس شکار کے پاس پہنچ جائے اوروہ ابھی زندہ ہو اوراس طریقے کے مطابق جس کا ذکر گزر گیا اسے ذبح کرلے توپھروہ حلال ہے۔

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button