خطبات جمعہسلائیڈرمکتوب خطبات

خطبہ جمعۃ المبارک (شمارہ:252)

(بتاریخ: جمعۃ المبارک 24 مئی 2024ء بمطابق 15ذوالقعدۃ 1445ھ)
تحقیق و ترتیب: عامر حسین شہانی جامعۃ الکوثر اسلام آباد

جنوری 2019 میں بزرگ علماء بالخصوص آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ کی جانب سے مرکزی آئمہ جمعہ کمیٹی قائم کی گئی جس کا مقصد ملک بھر میں موجود خطیبِ جمعہ حضرات کو خطبہ جمعہ سے متعلق معیاری و مستند مواد بھیجنا ہے۔ اگر آپ جمعہ نماز پڑھاتے ہیں تو ہمارا تیار کردہ خطبہ جمعہ پی ڈی ایف میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے وٹس ایپ پر رابطہ کیجیے۔
مرکزی آئمہ جمعہ کمیٹی جامعۃ الکوثر اسلام آباد
03465121280

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
موضوع: تہمت و بہتان
تہمت و بہتان یا الزام تراشی، دوسروں کی طرف قیاس اور گمان پر مبنی غیر مناسب کاموں کی نسبت دینے کو کہا جاتا ہے۔ تہمت اور الزام کا سرچشمہ دوسروں کے کردار پر سوء ظن (بدگمانی) رکھنا ہے۔ الزام لگانا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ الزام لگانے والے کی سزا تعزیر ہے اور قرآن کریم میں الزام لگانے والوں کے لئے عذاب کا وعدہ دیا گیا ہے۔
تہمت، بُہتان اور افترا میں فرق :
تہمت: یہ ایسا الزام ہے جس میں تہمت لگانے والے کو اس شخص میں عیب موجود ہونے کا یقین نہیں ہوتا لیکن پھر بھی اس پر الزام لگا دیتا ہے۔
بہتان و افتراء: بہتان ایسا الزام ہے جس میں الزام لگانے والے کو یہ یقین ہوتا ہے کہ جو الزام وہ لگا رہا ہے وہ ایک جھوٹا الزام ہی ہے لیکن پھر بھی اگلے بندے کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے الزام لگا دیتا ہے۔
قرآنی آیات:
وَ مَنۡ یَّکۡسِبۡ اِثۡمًا فَاِنَّمَا یَکۡسِبُہٗ عَلٰی نَفۡسِہٖ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا
اور جو برائی کا ارتکاب کرتا ہے وہ اپنے لیے وبال کسب کرتا ہے اور اللہ تو بڑا علم والا، حکمت والا ہے۔
وَ مَنۡ یَّکۡسِبۡ خَطِیۡٓىـَٔۃً اَوۡ اِثۡمًا ثُمَّ یَرۡمِ بِہٖ بَرِیۡٓــًٔا فَقَدِ احۡتَمَلَ بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا (سورہ النساء 112)
اور جس نے خطا یا گناہ کر کے اسے کسی بے گناہ کے سر تھوپ دیا تو یقینا اس نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا۔
اس آیت میں ایک ایسے جرم کا ذکر ہے، جس کا تعلق الٰہی اقدار سے بھی ہے اور انسانی اقدار سے بھی۔ الٰہی اقدار سے متعلق اس لیے کہ یہ اللہ کے حکم کی نافرمانی اور خطا و گناہ کا ارتکاب کرنا ہے۔ انسانی اقدار سے متعلق اس لیے ہے کہ کسی گناہ کا الزام کسی بے گناہ شخص پر تھوپ دینا ہے۔
اس آیت میں بَرِیۡٓــًٔا تنوین تنکیر کے ساتھ مذکور ہے، جس کا مطلب بنتا ہے: کوئی بے گناہ۔ اس میں مذہب، قوم اور گروہ کی قید نہیں ہے۔ اگر کسی یہودی کے سر تھوپ دیا جائے تو بھی یہ صریح گناہ ہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام انسانی اقدار میں سب انسانوں کو مساوی حقوق دیتا ہے اور تمام انسان اسلام کے نزدیک محترم ہیں، بشرطیکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کسی جرم و جاہلیت کا ارتکاب نہ کریں۔
وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو ناکردہ (گناہ ) پر اذیت دیتے ہیں پس انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا ہے۔(سورہ احزاب آیۃ 58)
مومن کو اذیت دینا خواہ زبان سے ہو یا عمل سے گناہ کبیرہ ہے۔
ناکردہ گناہ کی نسبت دے کر اذیت دینا۔ بہتان تراشی کرنا ایسے گناہ ہے جس کے گناہ ہونے میں کسی قسم کا ابہام نہیں بلکہ مبین, واضح اور صریح گناہ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑے اہتمام سے مؤمن کی حرمت بیان فرمائی ہے کہ مؤمن کا وقار مجروح کرنا اور اس پر ناکردہ گناہ کا جھوٹا الزام لگانا کتنا بڑا جرم ہے۔ اس میں ایک جھوٹ، دوسرا افتراء اور بہتان ہے جن کا مرتکب حرمت مؤمن کو مجروح کرنے کا عند اللہ مجرم ہے۔
تقریباً ہر معاشرے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو نیک لوگوں پر بہتان لگانے میں تامل نہیں کرتے اور اس کو گناہ نہیں سمجھتے۔(الکوثر فی تفسیر القرآن)
احادیث:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث منقول ہے:
مَنْ بَہَتَ مُوْمِناً اَوْ مُوْمِنَۃً اَوْ قَالَ فِیہِ مَا لَیْسَ فِیہِ اَقَامَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی تِلِّ مِنْ نَارٍ حَتَّی یَخْرُجَ مِمَّا قَالَ فِیہِ۔ (الوسائل الشیعۃ۱۲: ۲۸۷)
اگر کوئی مومن یا مومنہ پر بہتان باندھے یا کوئی ایسی بات کرے جو اس میں نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کے ایک ٹیلے پر اس گناہ سے نکلنے تک کھڑا رکھے گا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:
لِلّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ فِی بِلَادِہِ خَمْسُ حُرَمٍ حُرْمَۃُ رَسُولِ للّٰہِ ص وَ حُرْمَۃُ آلِ رَسُولِ للّٰہِ ص وَ حُرْمَۃُ کِتَابِ اللہِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ حُرْمَۃُ کَعْبَۃِ اللّٰہِ وَ حُرْمَۃُ الْمُؤْمِنٍ۔ (الکافی ۸: ۱۰۷)
اللہ عَزَّ وَ جلّ کی مملکت میں پانچ حرمتیں ہیں: رسول اللہؐ کی حرمت، آل رسولؐ کی حرمت، کتاب اللہ عَزَّ وَ جلّ کی حرمت، کعبہ کی حرمت اور مومن کی حرمت۔

امام جعفر صادقؑ  کا ارشاد ہے:
إِذَا اتَّهَمَ الْمُؤْمِنُ أَخَاهُ انْمَاثَ الْإِيمَانُ مِنْ قَلْبِهِ‌، كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.
(الكافي، الكليني، ج2، ص361)
جو مومن اپنے مومن بھائی پر تہمت لگاتا ہے تو ایمان اس کے دل میں اس طرح پگھل جاتا ہے جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اَلْبُهْتَانَ عَلَى اَلْبَرِيءِ أَثْقَلُ مِنَ اَلْجِبَالِ اَلرَّاسِيَاتِ.( بحار الأنوار ج۷۵ ص۱۹۰)
کسی پاکدامن مومن پر بہتان لگانا مستحکم پہاڑوں سے بھی زیادہ سنگین و بھاری ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
مَنْ بَهَتَ مُؤْمِناً أَوْ مُؤْمِنَةً أَوْ قَالَ فِيهِ مَا لَيْسَ فِيهِ أَقَامَهُ اَللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَى تَلٍّ مِنْ نَارٍ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ فِيهِ (جامع الأخبار ج۱ ص۱۴۸)
جو شخص کسی مومن یا مومنہ پر تہمت لگائے یا اس کے بارے ایسی بات کہے جو اس میں نہ پائی جاتی ہو تو بروز قیامت اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اس گناہ کی سزا بھگتنے تک آگ کے ٹیلے پر کھڑا کرے گا۔
تہمت کے مقام سے بچو:
مَنْ عَرَّضَ نَفْسَهُ لِلتُّهَمَةِ فَلاَ يَلُومَنَّ مَنْ أَسَاءَ بِهِ اَلظَّنَّ.( غرر الحکم ج۱ ص۶۴۵)
جو شخص خود کو تہمت کے مقام پہ لے جاتا ہے تو پھر اس شخص پر ملامت نہ کرے جو اس سے بدگمان ہوجائے۔
یعنی اگر کوئی بندہ ایسی جگہ پر جاتا ہے جہاں گناہ انجام دیا جاتا ہے مثلا ایسی محفل میں جائے جہاں شراب پی جاتی ہو اور لیکن اس نے خود شراب نہ پی ہو اور کل کو کوئی شخص اس پر بھی شراب پینے کا الزام لگائے تو اب اس بندے کو چاہیے کہ الزام لگانے والے کی ملامت کرنے کی بجائے اپنی ملامت کرے کیونکہ اس نے شراب والی محفل میں جاکر لوگوں کو الزام لگانے کا موقع خود دیا ہے۔ لہٰذا مومن کو چاہیے کہ ایسی محافل اور برائی کے مقامات پر جانے سے خود کو بچائے جہاں اس پر برائی کرنے کی تہمت لگائی جاسکتی ہو۔
اسی لیے مولا علیؑ  فرماتے ہیں:
إِيَّاكَ وَمَوَاطِنَ التُّهَمَةِ وَالْمَجْلِسَ الْمَظْنُونَ بِهِ السَّوْءُ، فَإِنَّ قَرِينَ السَّوْءِ يَغُرُّ جَلِيسَهُ. (الأمالي الطوسي، ص7)
تہمت والی جگہوں اور بدگمانی ایجاد ہونے والی مجالس سے بچے رہو کیونکہ برا دوست اپنے ہمنشین کو دھوکہ دیتا ہے۔

تہمت کی سزا: حضرت موسیٰ کا واقعہ
جب زکوٰۃ کا حکم نازِل ہوا تو قارون حضرتِ موسیٰ علیہ السَّلام کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اُن سے طے کیا کہ وہ اپنے تمام مال کا ہزارواں حصّہ زکوٰۃ کے طور پر دیا کرے گا، لیکن جب گھر آ کر اُس نے حساب لگایا تو اُس کے مال کا ہزارواں حصّہ بھی بہت زیادہ بَن رہا تھا، یہ دیکھ کر قارون نافرمان ہوگیا اور اس نے بنی اسرائیل کو حضرتِ موسیٰ سے بدگُمان کرنے کے لئے ایک بُری عورت کو 1000دِینار سونے کے سِکّے اور 1000 دِرہم چاندی کے سِکّے دے کر اِس بات پر راضی کیا کہ وہ بھرے مجمع میں آپ پر تہمت یعنی گناہ کا الزام لگائے۔ چنانچہ جب آپ علیہ السَّلام وعظ و نصیحت کے لئے لوگوں کے درمیان تشریف لائے تو قارون نے کہا: بنی اسرائیل کا خیال ہے کہ آپ کا کردار ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ایک عورت آپ کے بارے میں ایسا ایسا کہتی ہے۔ آپ علیہ السَّلام نے اُس عورت کو بلایا اور اُسے اللہ پاک کی قسم دے کر ماجرا پوچھا تو وہ ڈر گئی اور قارون کی سِکھائی ہوئی جھوٹی بات بولنے کے بجائے سب سچ بیان کرتے ہوئے قارون کی منافَقت اور رِشوت دینے کا پول کھول دیا۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السَّلام روتے ہوئے سجدے میں گِرگئے اور عرض کی: اے اللہ! اگر میں تیرا رسول ہوں تو قارون پر غضب فرما! چنانچہ آپ کی اِس دُعا کے بعد قارون اپنے دوساتھیوں کے ساتھ پہلے گھٹنوں تک، پھر کمر تک، اِس کے بعد گردن تک اور پھر بالآخر پورا زمین میں دھنس گیا۔
پھر بنی اسرائیل کے لوگوں نے حضرت موسیٰ  پر تہمت لگائی کہ موسی ٰ نے بد دعا کرکے قارون کو مروا دیا تاکہ اس کی دولت پر قبضہ کرسکے۔ تب حضرت موسیٰ نے پھر بددعا کی اور قارون کا سارا خزانہ بھی نابود ہوگیا۔(گنجینہ معارف)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں تہمت، بہتان اور افتراء جیسی برائی سے بچائے۔ آمین

٭٭٭٭٭

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button