سلائیڈرسیدہ زینب بنت علی سشخصیات

سفیرہ کربلا سیدہ زینب سلام اللہ علیہا

(حصہ اول)
زینب کے نام سے آگاہ اب بھی شام ہے زینب کے نام سے مجلس کا اہتمام ہے زینب کے نام سے یہ کربلا دوام ہے زینب کے نام سے زینب کا ہر بیان ہے تفسیر کربل زینب کا اماجلز ہے تشہیرِ کربل مختلف مسالک کی دنیا میں یہ ایک غلط مفروضہ قائم ہو چکا ہے کہ خانوادہ اہلبیت اور خاص طور پر کربلا کے شہدا اور مقتدر شخصیات کے بارے میں سب سے زیادہ علم یا عشق ومحبت کسی ایک مخصوص فرقے کو یا مسلک کو حاصل ہے۔
میں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی اور پرورش پائی اس میں کم ازکم میں نے اس فرق کو کبھی محسوس نہیں کیا۔ محبت اور عشق دراصل ایک رویہ ہے لیکن اس بات سے انکار ناممکن ہے کہ دنیا بھر میں عشق اور محبت کا ایک ہی رنگ اور ایک ہی ڈھنگ ہے۔ انسانوں سے محبت سے قطع نظر اپنے رب سے بھی محبت کے کتنے ہی انداز ہیں اور میری نظر میں کوئی انداز بھی غلط نہیں۔یہی سوچ کر میں اپنی استطاعت اور علمی و دینی علوم کے مرتبے سے واقف ہونے کے باوجود کربلاکی اس شیر دل خاتون اور ثانی بنت رسول پر قلم اٹھانے کی جرات کی ہے جو صرف مسلم خواتین کے لیئے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی حُریت پسند خواتین کے لیئے ایک مینار نور ہیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حیات طیبہ کو دیکھتےہیں تو سیدہ زینب سلام اللہ علیہا ایک فرد نہیں بلکہ اپنے مقدس وجود میں ایک عظیم کائنات سمیٹے ہوئے ہیں ۔ ایک ایسی عظیم کائنات جس میں عقل و شعور کی شمعیں اپنی مقدس کرنوں سے کاشانہ انسانیت کے دروبام کو روشن کئے ہوئےہیں ۔اور جس کے مینار عظمت پر کردار سازی کا ایسا پر چم لہراتا ہوا نظر آتا ہے کہ بی بی زینب کے مقدس وجود میں دنیائے بشریت کی وہ تمام عظمتیں اور پاکیز ہ رفعتیں سمٹ کر ایک مشعل راہ بن جاتیںہیں ۔عورتوں کی فطری ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور بنی نوع آدم علیہ السلام کو حقیقت کی پاکیزہ راہ دکھانے میں جہاں مریم و آسیہ وہاجرہ و خدیجہ اور طیب وطاہر صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا ءسلام اللہ علیہم کی عظیم شخصیت اپنے مقدس کردار کی روشنی میں ہمیشہ جبین تاریخ کی زینت بن کر نمونہ عمل ہیں وہاں جناب زینب سلام اللہ بھی اپنے عظیم باپ کی زینت بنکر انقلاب کربلا کا پرچم اٹھائے ہوئے آواز حق و باطل سچ اور جھوٹ ایمان و کفر اور عدل وظلم کے درمیان حد فاصل کے طور پر پہچانی جاتی ہیں ۔
آغاز میں ہی ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں جو عام مسلمان نے شاید جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ کی تینوں صاحبزادیوں کا نام زینب ہی تھا جو دراصل ‘‘زینِ اب‘‘ یعنی والد کی زینت اور فخر ہے
١۔۔۔زینب جنکا دوسرا نام رقیہ ہے اور روایات کے مطابق انکا مدفن مدینے میں ہے
٢۔۔۔زینب کبریٰ جو عقیلہ بنی ہاشم کہلاتی ہیں جنکا مدفن شام میں اور بعض روایات میں مصر میں ہے
٣۔۔۔۔زینب صغریٰ جو اُمِ کلثوم کہلاتی ہیں اور جنکی قبر مصر میں ہے
(علی کی بیٹی،ڈاکٹر علی قائمی)
کربلا کی شیر دل خاتون زینب کبریٰ ہیں جو عقیلہ بنی ہاشم کہلاتی ہیں ۔انہیں سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کی سرزمین پر کسب کمال میں وہ مقام حاصل کیا جس کی سرحدیں دائرہ امکان میں آنے والے ہر کمال سے آگے نکل گئیں اور حضرت زینب کی شخصیت تاریخ بشریت کی کردار ساز ہستیوں میں ایک عظیم اور منفرد مثال بن گئیں۔
جناب سیدہ زینب کی ولادت اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سرشاری
حضرت زینب سلام اللہ علیہا امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی بیٹی یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نواسی تھیں۔ وہ 5 جمادی الاول 6ھ کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔
جناب سیدہ کی پیدائش پر پورے مدینہ میں سرور و شادمانی کی لہر دوڑ گئی ۔ یوں جیسے رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں ان کی عزیز بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی آغوش میں ایک چاند کا ٹکڑا اتر آیا تھا ۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر میں تھے علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے بیٹی کو آغوش میں لیا ایک کان میں اذان اور ایک میں اقامت کہی اور دیر تک سینےسے لگائے ٹہلتے رہے۔
مولا علی سب سے زیادہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد کے منتظر تھے کہ دیکھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی نواسی کے لیئے کیا نام منتخب کرتے ہیں ۔ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن کا ہمیشہ سے یہ معمول تھا کہ جب بھی کہیں جاتے تو اپنی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا کے دروازے پر سلام کرکے رخصت ہوتے تھے اور جب بھی کہیں سے واپس ہوتے تو سب سے پہلے در سیدہ پر آکر سلام کرتے اور بیٹی سے ملاقات کے بعد کہیں اور جاتے تھے ۔
آج سب، جیسے ہی سفر سے پلٹے سب سے پہلے فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر میں داخل ہوئے اہل خانہ کو سلام اور نو مولود کی مبارک باد پیش کی، رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر سب تعظیم کے لیئے کھڑے ہوگئے اور حضرت علی نے بیٹی کو ماں کی آغوش سے لے کر نانا کی آغوش میں دے دیا ۔ روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیار کیا اور کچھ دیر تامل کے بعد فرمایا : خدا نے اس بچی کا نام ” زینب ” منتخب کیا ہے ۔
اس لیئے کہ زینب کے معنیہیں باپ کی زینت جس طرح عربی زبان میں ” زین ” معنی زینت اور "اب”معنی باپ کے ہیں یعنی باپ کی زینت ہیں ۔ حضور اقدس نے جناب سیدہ زینب کو اپنے سینہ اقدس سے لگالیا اور اپنا رخسار مبارک زینب بنت علی(ع) کے رخسار مبارک پر رکھ کر اتنا گریہ کیا کہ آپ کے آنسوں آپ کی ریش مبارک پر جاری ہوگئے ۔ آقا دو عالم جناب سیدہ زینب پر آنے والے مصائب سے آگاہ تھے ۔
نشو نما
سیدہ زینب کا بچپن فضیلتوں کے ایسے پاکیزہ ماحول میں گذرا جو اپنی تمام جہتوں سے کمالات میں گھرا ہوا تھا جس کی طفولیت پر نبوت و امامت کاسایہ ہر وقت موجود تھا اور اس پر ہر سمت نورانی اقدار محیط تھیں رسول اسلام (ص) نے انہیں اپنی روحانی عنایتوں سے نوازا اور اپنے اخلاق کریمہ سے زینب کی فکری تربیت کی بنیادیں مضبوط و مستحکم کیں ۔
نبوت کے بعد امامت کے وارث مولائے کائنات نے انیںب علم و حکمت کی غذا سے سیر کیا ، عصمت کبری فاطمہ زہراء نے انہیں ایسی فضیلتوں اور کمالات کے ساتھ پرورش فرمائی کہ جناب زینب تطہیر و تزکیہ نفس کی تصویر بن گیئں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ حسنین شریفین نے انیں بچپن ہی سے اپنی شفقت آمیزہمّ عصری کا شرف بخشا جو زینب کے پاکیزہ تربیت کی وہ پختہ بنیادیں بنیں جن سے اس مخدومہ اعلی کا عہد طفولیت تکمیل انسانی کی ایک مثال بن گی۔
شعوری اور فکری تربیت
فضیلتوں اور کرامتوں سے معمور گھر میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ کی مانند عظیم ہستیوں کے دامن میں زندگی بسر کرنے والی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا وجود تاریخ بشریت کا ایک ‌غیرمعمولی کردار بن گیاہے کیونکہ امام کے الفاظ میں اس عالمہ ‌غیر معلمہ اور فہیمہ غیر مفہمہ نے اپنے بے مثل ہوش و ذکاوت سے کام لیکر، عصمتی ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور الہی علوم و معارف کے آفتاب و ماہتاب سے علم و معرفت کی کرنیں سمیٹ کر خود اخلاق و کمالات کی درخشاں قندیل بن گئیں ۔
جب بھی ہم جناب زینب سلام اللہ علیہا کی تاریخ حیات کا مطالعہ کرتے ہیں ان کے معنوی کمالات کی تجلیاں، جو زندگی کے مختلف حصول پر محیط نظر آتی ہیں، آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہیں چاہے وہ اپنی ماں کی آغوش میں مسکراتی تین چار کی ایک معصوم بچی ہو چاہے وہ کوفہ میں خلیفہ وقت کی بیٹی کی حیثیت سے خواتین اسلام کے درمیان اپنے علمی دروس کے ذریعہ علم و معرفت کے موتی نچھاور کرنے والی ” عقیلہ قریش ” ہو یا کربلا کے خون آشام معرکے میں اپنے بھائی حسین غریب کی شریک و پشت پناہ ، فاتح کوفہ و شام ہو ہرجگہ اور ہر منزل میں اپنے وجود اور اپنے زریں کردار و عمل کے لحاظ سے منفرد اور لاثانی نظر آتی ہے ۔
روایت کے مطابق حضرت زینب سلام اللہ علیہا ابھی چار سال کی بھی نہیں ہوئی تھیں کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ایک ضرورتمند کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اور جناب فاطمہ زہرا ءسلام اللہ علیہا سے اپنے مہمان کے لیئے کھانے کی فرمائش کی، معصومہ عالم نے عرض کی یا ابا الحسن ! اس وقت گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے صرف مختصر سی غذا ہے جو میں نے زینب کے لئے رکھ چھوڑی ہے یہ سن کر علی و فاطمہ کی عقیلہ و فہیمہ بیٹی دوڑتی ہوئی ماں کے پاس گئی اور مسکراتے ہوئے کہا : مادر گرامی، میرا کھانا بابا کے مہمان کو کھلا دیجئے، میں بعد میں کھالوں گی اور ماں نے بیٹی کو سینے سے لگالیا اور باپ کی آنکھوں میں مسرت و فرحت کی کرنیں بکھر گئیں :
” تم واقعا زینب ہو ” ۔
جناب زینب کو بھی بچپن میں ہی نانا محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سایہ رحمت اور پھر چند ہی ماہ بعد اپنی درد و مصا‌ئب میں مبتلا مظلوم ماں کی مادرانہ شفقت سے محروم ہونا پڑا لیکن زمانے کے ان حادثوں نے مستقبل کے عظیم فرائض کی ادائیگی کے لئے پانچ سالہ زینب کے حوصلوں کو اور زیادہ قوی و مستحکم کردیا ۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ جب وہ سات سال کی تھیں تو ان کے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے تقریباً تین ماہ بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی انتقال فرما گئیں ۔
اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی رحلت کے بعد علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے تمام خانگی امور کے علاوہ خواتین اسلام کی تہذیب و تربیت کی ذمہ داریوں کو اس طرح اپنے کاندھوں پر سنبھال لیا کہ تاریخ آپ کو ” ثانی زہرا” اور ” عقیلہ بنی ہاشم ” جیسے خطاب عطاکرنے پر مجبور ہوگئی ۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے نبوت و امامت کے بوستان علم و دانش سے معرفت و حکمت پھول اس طرح اپنے دامن میں سمیٹ لئے تھے کہ آپ نے احادیث کی روایت اور تفسیر قرآن کے لئے مدینہ اور اس کے بعد علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ کے دور خلافت میں کوفہ کے اندر، با قاعدہ مدرسہ کھول رکھاتھا جہاں خواتین کی ایک بڑی تعداد اسلامی علوم و معارف کی تعلیم حاصل کرتی تھی ۔ جناب زینب نے اپنے زمانے کی عورتوں کے لئے تعلیم و تربیت کا ایک وسیع دسترخوان بچھا رکھا تھا جہاں بہت سی خواتین آئیں اور اعلی علمی و معنوی مراتب پر فائز ہوئیں ۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عائلی زندگی
حضرت علی علیہ السلام نے اپنی بیٹی جناب زینب کبری کی شادی اپنے بھتیجے جناب عبداللہ ابن جعفر سےکی تھی، جن کی کفالت و تربیت، جناب جعفر طیار کی شہادت کے بعد خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ذمے لے لی تھی اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ نے ہی ان کی بھی پرورش کی تھی ۔
روایت میں ہے کہ حضرت علی کعلیہ السلام نے عبداللہ ابن جعفر سے شادی سے قبل یہ وعدہ لے لیا تھا کہ وہ شادی کے بعد جناب زینب کبری کے اعلی مقاصد کی راہ میں کبھی حائل نہیں ہوں گے اگر وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ سفر کریں تو وہ اپنے اس فعل میں مختار ہوں گی ۔
چنانچہ جناب عبداللہ ابن جعفر نے بھی اپنے وعدے پر عمل کیا اور حضرت علی علیہ السلام کے زمانے سے لے کر امام زین العابدین علیہ السلام کے زمانے تک ہمیشہ دین اسلام کی خدمت اور امام وقت کی پشتپناہی کے عمل میں جناب زینب سلام اللہ علیہا کی حمایت اور نصرت و مدد کی حضرت علی کرم اللہ وجہ کی شہادت کے بعد جناب زینب کو اپنےشوہر کے گھر میں بھی آرام و آسائش کی زندگی میسر تھی۔ان کے پانچ بچے ہوئے جن میں سے حضرت عون اور حضرت محمد کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شیدی ہو گئے ۔
جناب زینب کی اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام سے محبت:
جناب عبداللہ اقتصادی اعتبار سے اچھے تھے انہوں نے ہر طرح کی مادی و معنوی سہولیات حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے لئے مہیا کر رکھی تھیں ۔ وہ جانتے تھے جناب زینب سلام اللہ علیہا کو اپنے بھائیوں امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام سے بہت زیادہ محبت کرتی ہیں اور ان کے بغیر نہیں رہ سکتیں لہذا وہ اس راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں بنے ۔
خاص طور پر جناب زینب امام حسین علیہ السلام سے بہت زیادہ قریب تھیں اور یہ محبت و قربت بچپن سے ہی دونوں میں پرورش پارہی تھی چنانچہ روایت میں ہے کہ جب آپ بہت چھوٹی تھیں ایک دن جناب سیدہ فاطمہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی کہ بابا ! مجھے زینب اور حسین کی محبت دیکھ کر کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے یہ لڑکی اگر حسین کو ایک لمحے کے لیے نہیں دیکھتی تو بے چین ہوجاتی ہے، اس وقت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا : بیٹی ! وہ مستقبل میں اپنے بھائی حسین کی مصیبتوں اور سختیوں میں شریک ہوگی ” ۔
یہ سنتے ہی جناب زینب عظیم مقاصد کے تحت آرام و آسائش کی زندگی ترک کردی اور جب امام حسین کے ساتھ ہر محاز پر شریک سفر رہیں ۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جاوداں شخصیت کے تاریخی پہلو:
دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کی تحفظ وپاسداری جناب زینب نے اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں میں اسلامی معاشرہ میں رونما ہونے والے طرح طرح کے تغیرات بہت قریب سے دیکھے تھے خاص طور پر دیکھ کر کہ امویوں نے کس طرح دور جاہلیت کی قومی عصبیت اور نسلی افتخارات کو رواج دے رکھاہے اور علی الاعلان اسلامی احکامات کو پامال کررہے ہیں، علی و فاطمہ کی بیٹی اپنے بھائی حسین کے ساتھ اسلامی اصولوں کی برتری کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہوگئی ظاہر ہے جناب زینب، بھائی کی محبت سے قطع نظر اسلامی اقدار کی حفاظت اور اموی انحراف سے اسلام کی نجات کے لئے امام حسین علیہ السلام سے ساتھ ہوئی تھیں کیونکہ آپ کاپورا وجود عشق حق اور عشق اسلام سے سرشار تھا ۔
علم و تقوی
کائنات کی سب سے محکم و مقدس شخصیتوں کے درمیان پرورش پانے والی خاتون کتنی محکم و مقدس ہوگی اس کا علم و تقوی کتنا بلندو بالا ہوگا۔ جب آپ مدینہ سے کوفہ تشریف لائیں تو کوفہ کی عورتوں نے اپنے اپنے شوہروں سے کہا کہ تم علی سے درخواست کرو کہ آپ مردوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کافی ہیں ، لیکن ہماری عو رتوں نے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اگر ہو سکے تو آپ اپنی بیٹی زینب سے کہہ دیں کہ ہم لوگ جاہل نہ رہ سکیں ۔ایک روز کوفہ کی اہل ایمان خواتین رسول زادی کی خدمت میں جمع ہو گئیں ۔اور ان سے درخواست کی کہ انھیں معارفت اللہ سے مستفیض فرمائیں ۔ زینب نے مستورات کوفہ کے لئے درس تفسیر قرآن شروع کیا اور چند دنوں میں ہی خواتین کی کثیر تعداد علوم اللہ سے فیضیاب ہونے لگی ۔ آپ روز بہ روز قرآن مجید کی تفسیر بیان کر تی تھیں ۔
تاریخ آپ کو ” ثانی زہرا” اور ” عقیلہ بنی ہاشم ” جیسے ناموں سے بھی یاد کرتی ہے ۔
کوفہ میں آپ کے علم کا چرچہ روز بروز ہر مردو زن کی زبان پر تھا اور ہر گھر میں آپ کے علم کی تعریفیں ہو رہی تھیں اور لوگ علی(ع) کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی بیٹی کے علم کی تعریفیں کیا کرتے تھے یہ اس کی بیٹی کی تعریفیں ہو رہی ہیں جس کا باپ "راسخون فی العلم ” جس کا باپ باب شہر علم ہے جس کا باپ استاد ملائکہ ہے ۔
جذبہ جہاد اور سرفروشی:
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے واقعہ کربلا میں اپنی بے مثال شرکت کے ذریعے تاریخ بشریت میں حق کی سربلندی کے لڑے جانے والی سب سے عظیم جنگ اور جہاد و سرفروشی کے سب سے بڑے معرکہ کربلا کے انقلاب کو رہتی دنیا کے لئےجاوداں بنادیا ۔ جناب زینب سلام اللہ کی قربانی کا بڑا حصہ میدان کربلا میں نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اسیری اور کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں تشہیر سے تعلق رکھتاہے
فصاحت و بلاغت اور نظم و تدبیر:
اس دوران جناب زینب کبری کی شخصیت کے کچھ اہم اور ممتاز پہلو، حسین ترین شکل میں جلوہ گر ہوئے ہیں ۔ خدا کے فیصلے پر ہر طرح راضی و خوشنود رہنا اور اسلامی احکام کے سامنے سخت ترین حالات میں سر تسلیم و رضا خم رکھنا علی کی بیٹی کا سب سے بڑا امتیازہے صبر، شجاعت، فصاحت و بلاغت اور نظم و تدبیر کے اوصاف سے صحیح اور پر وقار انداز میں استفادہ نے آپ کو عظیم انسانی ذمہ داریوں کی ادائگی میں بھرپور کامیابی عطا کی ہے ۔
سالارٍ حقانیت:
جناب زینب نے اپنے وقت کے ظالم و سفاک ترین افراد کے سامنے پوری دلیری کے ساتھ اسیری کی پروا ہ کےا بغیر مظلوموں کے حقوق کا دفاع کیاہے اور اسلام و قرآن کی حقانیت کا پرچم بلند کیا۔ جن لوگوں نے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک ویران و غیر آباد صحرا میں قتل کرکے، حقائق کو پلٹنے اور اپنے حق میں الٹا کر کے پیش کرنے کی جرات کی تھی سردربار ان بہیمانہ جرائم کو برملا کرکے کوفہ و شام کے بے حس عوام کی آنکھوں پر پڑے ہوئے غفلت و بے شرمی کے پردے چاک کےا ہیں ۔
انقلابی تدبر:
باوجود اس کے کہ بظاہر تمام حالات بنی امیہ اور ان کے حکمراں یزید فاسق و فاجر کے حق میں تھے جناب زینب نے اپنے خطبوں کے ذریعے اموی حکام کی ظالمانہ ماہیت برملا کر کے ابتدائی مراحل میں ہی نواسہ رسول کے قاتلوں کی مہم کو ناکام و نامراد کردیا۔
بے مثال عالمہ اور صبرو استقامت کا کوہ گراں:
امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بحمد اللہ میری پھوپھی زینب سلام علیہاعالمہ غیرمعلمہ ہیں اور ایسی دانا کہ آپ کو کسی نے پڑھایا نہیںہے۔زینب سلام علیہا کی حشمت و عظمت کے لئے یہی کافی تھا کہ انہیں خالق کایئنات نے علم ودانش سے سرفراز فرمایا تھا۔جناب زینب ان تمام صفات کے ساتھ ساتھ فصاحت و بلاغت کی عظیم دولت و نعمت سے بھی بہر مند تھی زینب بنت علی تاریخ اسلام کے مثبت اور انقلاب آفریں کردار کا دوسرا نام ہے ۔زینب نے اپنے عظیم کردار سے آمریت کو بے نقاب کیا ظلم و استبداد کی قلعی کھول دی اور فانی دنیا پر قربان ہونے والوں کو آخرت کی ابدیت نواز حقیقت کا پاکیزہ چہرہ دیکھا یا ، صبرو استقامت کا کوہ گراں بنکر علی علیہ السلام کی بیٹی نے ایسا کردار پیش کیا جس سے ارباب ظلم و جود کو شرمندگی اور ندامت کے سوا کچھ نہ مل سکا ۔
جناب زینب کو علی و فاطمہ علیہما السلام کے معصوم کردار ورثے میں ملے اما م حسن علیہ السلام کا حسن وتدبیر جہاں زینب کے احساس عظمت کی بنیاد بنا وہاں امام حسین علیہ السلام کا عزم واستقلال علی علیہ السلام کی بیٹی کے صبر و استقامت کی روح بن گیا ، تاریخ اسلام میں زینب نے ایک منفرد مقام پایا اور ایساعظیم کارنامہ سرانجام دیا جو رہتی دنیاتک دنیائے انسانیت کے لئے مشعل راہ واسوہ حسنہ بن گیا۔
زینب بنت علی (ع) تاریخ اسلام میں اپنی ایک مخصوص انفرادیت ھے اور واقعہ کربلا میں آپ کے صبر شجاعانہ جہاد نے امام حسین علیہ السلام کے مقدس مشن کی تکمیل کو یقینی بنایا ۔ آپ نے دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کا تحفظ وپاسداری میں اپناکردار اس طرح ادا کیا کہ جیسے ابوطالب (ع) رسول اللہ (ص) کی پرورش میں اپنے بھتیجے کے تحفظ کے لیئے اپنی اولاد کو نچھاور کرنا پسند کرتے تھے کیونکہ ان کا ایک مقصد تھا کہ محمد بچ جائے وارث اسلام بچ جائے بالکل اسی طرح زینب کاحال یہ کہ اسلام بچ جائے دین بچ جائے چاہے کوئی بھی قربانی دینی پڑے ۔
https://erfan.ir/

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button